نئی دہلی 25/ڈسمبر (ایس او نیوز) پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی ) کی مرکزی سیکریٹریٹ کے اجلاس میں لاکھوں آسامی متاثرین جن کے نام شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) میں شامل نہیں کیے گئے ہیں، ان کی شہریت کو لاحق زبردست تباہی سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ سے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس بات کی اطلاع پی ایف آئی کے جنرل سکریٹری ایم محمد علی جناح نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے دی ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اپنے دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 31/دسمبر2018 مقرر کی گئی ہے۔ لیکن این آر سی کے آخری مسودے میں شامل نہیں کیے جانے والے چالیس لاکھ لوگوں میں سے اب تک صرف بیس لاکھ لوگوں کے بارے میں یہ رپورٹ ملی ہے کہ انہوں نے اپنے دعوے اور اعتراضات داخل کیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سامنے خود این آر سی کے کوآرڈنیٹر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس سست رفتاری کی بڑی وجہ اپنے دعوے داخل کرنے کے لیے ضروری مطالبات کی پیچیدگی ہے۔زمینی رپورٹیں یہ بتاتی ہیں کہ این آر سی کے مراکز وراثتی دستاویزات کے نام پر درخواست گذاروں کے سامنے مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ بقیہ پانچ دنوں میں اب تک فہرست میں شامل نہ کیے جانے والے بیس لاکھ لوگ کسی بھی صورت میں اپنے دعوے داخل نہیں کر پائیں گے۔ ریلیز کے مطابق اجلاس میں یہ بات کہی گئی کہ اگر اس کی تاریخ میں توسیع نہیں کی گئی، تو ان شہریوں کی بڑی تعداد آئندہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ نہیں لے پائے گی۔
پریس ریلیز میں اس بات پر دکھ کا اظہار کیا گیا ہے اپوزیشن پارٹیاں بھی پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں اٹھا رہی ہیں۔ کئی ایسی خودغرض پارٹیاں ہیں جو اس خوفناک المیے سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی تاک میں ہیں۔ لیکن یہ بات دستور میں مذکور شہریت کے اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ ملک کو امید ہے کہ عدالت عظمیٰ اس طرح کی ناانصافی ہونے نہیں دے گی۔ پی ایف آئی نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ این آرسی کے عمل کو آسان بنائے اور دعوے داخل کرنے کی آخری تاریخ میں مزید چھ مہینوں کی توسیع کرے۔
ریلیز کے مطابق چیئرمین ای ابوبکر نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں جنرل سکریٹری ایم محمد علی جناح، نائب چیئرمین او ایم اے سلام، سکریٹری عبدالواحد سیٹھ، کے ایم شریف اور ای ایم عبدالرحمن شریک تھے۔